بلوچستان ہائی کورٹ کے احکامات اور حکومتی دعووں کے باوجود موبائل انٹرنیٹ سروسز تاحال بحال نہیں ہو سکیں

کوئٹہ:بلوچستان بھر میں سیکورٹی خد شات کے باعث موبائل انٹرنیٹ سروسز کی معطلی کو دو ہفتے مکمل ہو گئے ہیں، جس کے باعث طلبہ، فری لانسرز، آن لائن کاروباری افراد اور عام شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ حکومتی دعووں اور بلوچستان ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود تاحال سروسز بحال نہیں ہو سکیں۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے مطابق کوئٹہ، کوہلو، چمن، پشین، لورالائی، زیارت، نوشکی اور دیگر اضلاع میں موبائل انٹرنیٹ سروسز سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر بند کی گئی تھیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کی عدم دستیابی سے تعلیمی و کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ عوامی و سماجی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انٹرنیٹ سروسز فوری طور پر بحال کی جائیں تاکہ شہریوں کو ریلیف مل سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے