ہم وفاقی کابینہ کے مارکٹیں اورریسٹورینٹ رات 8 بجے بند کرنے کے فیصلے کو یکسرمستر د کرتے ہیں، رحیم آغا

کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) انجمن تاجران بلوچستان رجسٹرڈ کے صدر رحیم آغا عمران ترین، حاجی نصرالدین کاکڑ،ولی افغان، میر رحیم بنگلزئی، حاجی یعقوب شاہ کاکڑ، اسلم اچکزئی، حیدر آغا، حاجی ظہور کاکڑ، منظور ترین، شفیع آغا، طاہر جدون،حسن خلجی،امردین آغا، عباس کاسی، اسد ترین، نعمت ترین، شاہ محمد میاخیل، فیض محمد داوی، بسم اللہ ترین، دوست محمد ترین، حاجی قیوم خلجی، انور کاسی، غنی آغا، فیض افغان نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ ہم وفاقی کابینہ کے مارکٹیں اور ریسٹورینٹ رات 8 بجے اور شادی ہال رات 10 بجے بند کرنے کے فیصلے کو یکسر مستر د کرتے ہیں۔ وفاقی حکومت کی جانب سے بغیر مشاورت مارکیٹس رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ ناقابل عمل ہے۔ حکومت نمائشی اقدامات کی بجائے معاشی بحران کے حل پر توجہ دے۔ بدترین معاشی حالات میں کاروبار جلد بند کرنا تاجروں کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔ بیان میں کہا ہے کہ حکومت فوری طور پر اس فیصلے پر نظر ثانی کریں۔ اور کہا ہے وفاقی حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ تاجروں کو اعتماد میں لئے بڑی کیا گیا ہے ماضی میں بھی کیے گئے ایسے فیصلوں سے توانائی کی بچت نہیں ہو سکی اور کہا ہے کہ بدترین معاشی حالات میں کاروبار جلد بند کرنا کروڑوں خاندانوں کے معاشی قتل کے مترادف ہے حکومت اگر سنجیدہ ہے تو سرکاری دفاتر کے اوقات کار تبدیل کرے اورایوان صدر،وزیراعظم ہاوس سمیت تمام سرکاری دفاتر میں بجلی کے ضیاع کو روکا جائے،تمام سڑکوں،پارکوں،تفریحی مقامات پر لگی ہزاروں لائٹس کو بند کیا جائے۔ اور بلوچستان میں تمام اضلاع میں اس وقت صرف چار سے پانچ گھنٹے بجلی آتی ہے اور زراعت کا شعبہ تباہ ہوچکا ہے اور حالیہ بارشوں اور سیلابوں سے کھربوں روپے کے زراعت ختم ہوگئی ہے اور تاجر طبقہ باڈروں کی بندش اور معاشی عدم استحکام سے کاروبار ختم کرنے پہ مجبور ہوگئے ہیں اور بیروزگاری میں بھی اضافہ ہوگیا ہے اور کوئٹہ شہر سمیت گرد نواح میں بارہ سے اٹھارہ گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ ہورہی ہیں اور ایسی صورتحال ہونے کے باوجود وفاقی حکومت مزید کاروبار بند کرانے پر تلی ہوئی ہیں جس کی ہم ہرگز اجازت نہیں دینگے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے