لمبے درختوں پہ چڑھائی، اب ہوئی آسان: کسان نے لفٹس کی طرح کا اسکوٹر بنا لیا۔

نئی دہلی: بچپن اور نوجوانی میں درختوں پر چڑھنا قدرے آسان ہوتا ہے بلکہ گاؤں اور قصبوں کے بچوں کا پسندیدہ کھیل بھی کہلاتا ہے لیکن جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے تو درختوں پہ چڑھائی مشکل ہوتی جاتی ہے۔

درختوں پر چڑھنے میں سب سے زیادہ مشکل انہیں درپیش ہوتی ہے جن کا ذریعہ روزگار بھی انہی سے واپستہ ہوتا ہے اور پھر بارشوں کا سیزن تو مشکلات میں مزید اضافے کا سبب بن جاتا ہے کیونکہ پھسلن کے سبب کئی مرتبہ حادثات بھی رونما ہو جاتے ہیں مگر اب اس مشکل کا بھی حل نکل آیا ہے۔

بھارت کے کسان گنا پتھی بھٹ نے اپنی مدد آپ کے تحت ایک ایسی اسکوٹر بنائی ہے جو عمارات میں نصب لفٹس کی طرح سیکنڈوں میں آدمی کو درخت کے انتہائی اوپری حصے تک پہنچا دیتی ہے۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق جنوبی بھارت کے شہری نے جو اسکوٹر تیار کی ہے وہ چھوٹی سی سیٹ اور دو پہیوں پر مشتمل ہے جسے انہوں نے ’ٹری اسکوٹر‘ کا نام دیا ہے۔

اس ضمن میں خبر رساں ایجنسی نے بتایا ہے کہ کرناٹک کے گاؤں منگلورو کے 50 سالہ رہائشی گنا پتھی بھٹ کو اپنے روزگار کے سلسلے میں روزآنہ درختوں پہ چڑھنا پڑتا ہے کیونکہ وہ کبھی پھل اتارنے چڑھتے ہیں تو کبھی ان کی تراش خراش کے لیے انہیں ایسا کرنا پڑتا ہے۔

خبررساں ایجنسی کو گنا پتھی بھٹ نے ٹری اسکوٹر کے متعلق بتایا کہ ان کا 18 ایکڑ پر مشتمل فارم ہے اور چونکہ روزگار بھی یہی ہے اس لیے انہیں بارشوں کے دوران بھی کام کرنا پڑتا ہے۔ انہوں ںے کہا کہ روزآنہ متعدد درختوں پر چڑھائی اور اترائی اب ان کے لیے تکلیف کا سبب بن رہی تھی کیونکہ عمر بڑھتی جارہی ہے تو انہوں نے ایک ایسی اسکوٹر کی تیاری پر کام شروع کیا جو انہیں باآسانی درختوں پہ چڑھنے میں معاون و مدد گار ثابت ہو۔

گنا پتھی بھٹ کےمطابق انہوں نے اس سلسلے میں 2014 میں کام شروع کیا اور تقریباً 40 لاکھ روپے خرچ کیے لیکن نتیجہ یہ نکلا کہ وہ کامیاب ہو گئے حالانکہ ان کے خیال سے پہلے کوئی بھی متفق نہیں تھا البتہ ان کا بھرپورساتھ ان کے ایک دوست نے دیا۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق چار سال کی محنت کے بعد جب وہ ٹری اسکوٹر بنانے میں کامیاب ہوگئے تو انہیں لوگوں کی جانب سے باقاعدہ آرڈرز بھی ملنے لگے جس کے بعد انہوں نے یہ نیا کام بھی شروع کردیا۔ وہ اب تک 300 سے زائد ٹری اسکوٹرز بنا کر فروخت کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹری اسکوٹر کی قیمت صرف 62 ہزار روپے ہے۔

ٹری اسکوٹر گنا پتھی بھٹ کو نہایت آسانی سے سیکنڈوں میں درختوں کے انتہائی اوپر لے جاتا ہے جس کے نتیجے میں وہ آسانی سے پھل اتار لیتے ہیں اور درختوں کا جائزہ بھی لے لیتے ہیں۔

بھارت پوری دنیا میں سب سے زیادہ چھالیہ پیدا کرنے والا ملک ہے۔ بھارتی ریاستوں کرناٹک اور کیرالہ میں چھالیہ کی بہت زیادہ پیداوار ہوتی ہے۔ بھارتی کسان گنا پتھی بھٹ کو بھی چھالیہ کے درختوں سے بہت زیادہ واسطہ پڑتا ہے۔

یاد رہے کہ کھجور اور ناریل کے علاوہ دنیا میں کئی ایسے پھل ہیں جو درختوں کی چوٹی پر لگتے ہیں اور انہیں اتارنا نہایت کٹھن ہوتا ہے مگر اب یہ مشکل بھی حل ہو گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے