سرداربابرموسیٰ خیل نے محکمہ زراعت کے افسران کی ون اسٹیپ پروموشن نہ ہونے پررپورٹ طلب کرلی

کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی سردار بابر موسیٰ خیل نے کلکٹر کسٹم کو پیر کو اسمبلی طلب کرلیا، محکمہ زراعت کے افسران کی ون اسٹیپ پروموشن نہ ہونے پر رپورٹ طلب کرلی،جمعرات کو بلوچستان اسمبلی کا اجلاس ایک گھنٹہ کی تاخیر سے ڈپٹی سپیکر سردار بابرخان موسیٰ خیل کی زیرصدارت شروع ہوا۔ اجلاس میں جمعیت علماء اسلام کے رکن میر زابد علی ریکی نے پوائنٹ آف آرڈر پر ماشکیل زیرو پوائنٹ کی مسلسل بندش کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل بھی ایوان میں اس مسئلے کو اٹھا چکا ہوں مگر ماشکیل زیر و پوائنٹ اب تک بند ہے کسٹم حکام کسی کی بات سننے کو تیار نہیں اور نہ ہی وہ اس ایوان کو اہمیت دیتے ہیں انہوں نے ڈپٹی سپیکر سے استدعا کی کہ کسٹم حکام کو بلوچستان اسمبلی طلب کرکے اس بابت بات کی جائے۔ جس پر ڈپٹی سپیکر سردار بابرخان موسیٰ خیل نے کلکٹر کسٹم کو پیر کے روز ایوان میں طلب کرنے کی رولنگ دی۔ اجلاس میں جمعیت علماء اسلام کے میر یونس عزیز زہری نے پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ خضدار میں بولان مائننگ کمپنی جو 1970ء کی دہائی سے کام کررہی ہے معاہدے کی مدت ختم ہونے کے باوجود کمپنی نے اپنا کام جاری رکھا ہوا ہے کمپنی کے سربراہ کا دفتر کوئٹہ میں ہے میں نے ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو ملاقات کی بجائے انہوں نے کہا کہ وہ صرف فون پر بات کرسکتے ہیں جس سے میرا استحقاق مجروح ہوا ہے جس پر میں تحریک استحقاق لاؤں گا انہوں نے کہا کہ اب خضدار میں صوبائی حکومت کو پچاس ہزار ایکڑا راضی کی الاٹمنٹ لیز کے لئے درخواست دی گئی ہے اور شنید ہے کہ یہ اراضی الاٹ ہونے جارہی ہے انہوں نے کہا کہ خضدار میونسپل ایریا میں پچاس ہزار ایکڑ اراضی اگر الاٹ کی گئی تو پھر شہر کو کہاں لے کر جائیں گے؟ ہم اس کی اجازت نہیں دیں گے اگر پی پی ایل کو یہ اراضی دی گئی تو اس پر ہم شدید احتجاج کریں گے۔ سابق وزیراعلیٰ نواب محمد اسلم رئیسانی نے کہا کہ یہ نہایت اہم معاملہ ہے ماضی میں اس ایوان کی ایک کمیٹی بنی تھی جس میں میں اور ملک سکندر خان ایڈووکیٹ بھی شامل تھے جس نے یہ رپورٹ دی تھی کہ یہاں کوئی اسٹیٹ لینڈ نہیں بلکہ تمام قبائل کی اراضی ہے اگر کسی بھی وفاقی یا صوبائی ادارے کو کسی بھی مقصد کے لئے زمین چاہئے تو وہ قبائل سے بات کرے پشتونخوا میپ کے نصراللہ زیرئے نے یونس عزیز زہری کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہاں تمام اراضی صوبے میں آباد قبائل کی ہے مگر گزشتہ دنوں میں زیارت گیا تو وہاں علم ہوا کہ قبائل کی اراضی لوگوں کو الاٹ کی جارہی ہے یہی کچھ کوئٹہ میں مختلف قبائل کی اراضی کے ساتھ کیا جارہا ہے جبکہ انگریز دور میں بھی جب اراضی کی ضرورت پڑتی تھی تو وہ قبائل سے بات کرتے تھے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر ملک نصیر شاہوانی نے پوائنٹ آف آرڈر پر محکمہ زراعت کے 21افسران کے ون سٹیپ پروموشن نہ ہونے کی جانب ایوان کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ ون سٹیپ پروموشن ان افسران کا حق ہے جو نہیں دیا جارہا اس حوالے سے ہم نے پہلے بھی ایوان میں آواز اٹھائے ان کی پروموشن کے لئے وزیراعلیٰ سے لے کر ایس اینڈجی اے ڈی، لاء ڈیپارٹمنٹ فنانس اور دیگر تمام محکموں نے نہ صرف منظوری دی بلکہ تمام مراحل بھی طے ہوگئے مگر اب ڈائریکٹرجنرل زراعت اس کی منظوری نہیں دے رہے اس سے ان افسران کی حق تلفی ہورہی ہے انہوں نے کہا کہ ہماری معلومات کے مطابق اس سارے عمل میں ڈی جی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں ڈپٹی سپیکر اس حوالے سے رولنگ دیں تاکہ افسران کے ون سٹیپ پروموشن کو یقینی بنایا جاسکے جس پر ڈپٹی سپیکر نے رولنگ دیتے ہوئے متعلقہ محکمے سے اس حوالے سے رپورٹ طلب کرلی۔اجلاس میں عوامی مفاد کے نکتے پر اظہار خیال کرتے ہوئے ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے قادر علی نائل نے دو مارچ کو فاطمہ جناح روڈ پر واقع جوتوں کی دکان میں بم دھماکے میں تین افراد کے شہید ہونے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ پوچھنا چاہتاہوں کہ واقعے میں دکان میں موجود علمدار روڈ اور ہزارہ ٹاؤن سے تعلق رکھنے والے دونوجوان بھی شہید ہوئے ان کی لاشیں بمشکل شناخت کے قابل رہیں شہر میں خو ف وہراس پھیلانے والے ایسے واقعات کا تدارک کیوں نہیں ہورہا اسے دہشت گردی کا ایک عام واقعہ نہ سمجھا جائے ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک بار پھر ہزارہ نسل کشی کی ایک کڑی ہے جس طرح ماضی میں ہزارہ قوم کو محدود کرنے کی کوششیں کی گئیں اب ایک مرتبہ پھر یہ سلسلہ شروع کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں انہوں نے زور دیا کہ فاطمہ جناح روڈ واقعے کو ایک عام واقعہ قرار نہ دیا جائے بلکہ اس کی تحقیقات کراکے حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں۔بی این پی کے میر اکبر مینگل نے فاطمہ جناح روڈ واقعے کی مذمت کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے اہلخانہ سے اظہار یکجہتی کیا انہوں نے اسلام آباد میں بلوچستان کے طلبہ پر پولیس کی جانب سے تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ دوسرے صوبوں میں زیر تعلیم بلوچستان کے طلباء عدم تحفظ کا شکار ہیں تشدد کرکے انہیں ہراساں کیا جاتا ہے حال ہی میں اسلام آباد پولیس نے جو رویہ اپنا یا وہ قابل مذمت ہے۔ بی این پی کے احمد نواز بلوچ نے بھی فاطمہ جناح روڈ واقعے کی مذمت اورمتاثرہ خاندانوں سے تعزیت ویکجہتی کااظہار کیا انہوں نے گزشتہ دنوں کردگاپ کے علاقے گورگینہ میں دوبچوں کو قتل کرکے ریوڑ چھیننے کے واقعے کی مذمت کی۔ بعدازاں ڈپٹی سپیکر نے گورنر بلوچستان کا حکمنامہ پڑ ھ کر سناتے ہوئے اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے