بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں محمد خان لہڑی اورمیر سلیم کھوسہ آپس میں الجھ پڑے

کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں بی اے پی کے صوبائی وزیر محمد خان لہڑی اور رکن صوبائی اسمبلی میر سلیم کھوسہ آپس میں الجھ پڑے، ارکان اسمبلی نے بیچ بچاؤ کروایا، تفصیلات کے مطابق جمعرات کو بلوچستا ن اسمبلی کے اجلاس میں بلوچستان عوامی پارٹی کے میر سلیم کھوسہ نے پوائنٹ آف آرڈر پر نصیر آباد ڈویژن میں پٹ فیڈر کینال کی ڈی سلٹنگ کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ نصیر آباد ڈویژن صوبے کا واحد علاقہ ہے جہاں نہری نظام ہے اوربڑے عرصے بعد پٹ فیڈر کی ڈی سلٹنگ کے لئے فنڈز آئے ہیں انہوں نے کہا کہ ایریگیشن کے نظام کو ناکام بنانے کی ذمہ داری ایری گیشن کے محکمے پر عائد ہوتی ہے اب جو فنڈز آئے ہیں اگر ان کی موثر مانیٹرنگ نہ ہوئی تو یہ فنڈز بھی ضائع ہوجائیں گے اور وہاں لوگوں کو پانی بھی نہیں ملے گا ماضی میں بھی ایسا کچھ ہوتا رہا ہے زمینداروں پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے تاکہ فنڈز کی مانیٹرنگ اور درست استعمال کو یقینی بنایا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ میرے پی ایس ڈی پی میں سی اینڈ ڈبلیو سے متعلق منصوبوں کے ٹینڈرز ہوئے اسی دوران وہاں سینئر آفیسر کو ہٹا کر ایک جونیئر ایکسیئن کو بھیجا گیا ساتھ ہی اسے میرے منصوبوں کے فنڈز سے ایک بڑا حصہ کوئٹہ پہنچانے کی ہدایت کی گئی ہے یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ مختلف محکموں میں ماضی کی طرح آج بھی کرپشن جاری ہے وزراء سمیت افسران کی ایک بڑی تعداد نیک نام اور اچھا کام کررہی ہے مگر چند لوگوں کی وجہ سے صوبے کی بدنامی ہوتی ہے صوبے میں سرکاری ملازمتیں بیچی جارہی ہیں جس پر عوام احتجاج کررہے ہیں اگر ملازمتیں فروخت ہی کرنی ہیں تو کم از کم انہی اضلاع کے لوگوں کو فروخت کی جائیں سمجھ نہیں آرہا کہ حکومت کس سمت جارہی ہے اپوزیشن گزشتہ ساڑھے تین سال کے دوران تو ہر مسئلے پر بات کرتی تھی مگر اب اپوزیشن ارکان نے بھی خاموشی اختیار کر رکھی ہے جس پر جمعیت علماء اسلام کے میر زابد ریکی نے کہا کہ اپوزیشن کے ارکان تو تین سال تک اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر احتجاج کررہے تھے ہم یہاں ہر مسئلے پر بات کرتے تھے تو سلیم کھوسہ و دوسرے ہم پر ہنستے تھے آج حکومتی جماعت کا رکن ہونے کے باوجود وہ خود رو رہے ہیں صوبائی وزیر خزانہ نور محمد دمڑ نے کہا کہ سلیم کھوسہ نے جن تحفظات کا اظہار کیا ہے انہیں جلد دور کردیا جائے گا جہاں تک انہوں نے کرپشن کی بات کی ہے تو انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کس دور کی بات کررہے ہیں موجودہ حکومت کے چار ماہ کے دور میں کافی حد تک بہتری آئی ہے انہوں نے الزام تو لگایا مگر انہوں نے کسی محکمے یا افسر کی نشاندہی نہیں کی اگر کرتے تو بہتر ہوتا سرکاری ملازمتیں بیچنے کوہم سب سے برا عمل سمجھتے ہیں صوبائی وزیر محمد خان لہڑی نے کہا کہ پٹ فیڈر کی ڈی سلٹنگ کے لئے ہم نے فنڈز منظور کروائے سلیم کھوسہ جب خود وزیر تھے تو انہوں نے کبھی اس سلسلے میں کوئی بات تک نہیں کی آج جب ہم نے فنڈز منظور کرائے ہیں توانہیں پٹ فیڈر کی یاد آئی ہے جس پر محمد خان لہڑی اور میر سلیم کھوسہ کے درمیان تندو تیز اور تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا محمدخان لہڑی نے کہا کہ ہم نے ڈی سلٹنگ کے لئے کمیٹی بنادی ہے جس میں اعلیٰ سرکاری افسران سمیت زمینداروں کے نمائندے بھی شامل ہیں سلیم کھوسہ نے کہا کہ صوبائی وزیر ایسے نام گنوا رہے ہیں جیسے فرشتوں کی کمیٹی بنادی ہو۔ جس پر ایک مرتبہ پھر محمدخان لہڑی اور میر سلیم کھوسہ آپس میں الجھ پڑے صوبائی وزراء اور ارکان اسمبلی دونوں اراکین کوخاموش کراتے رہے مگر دونوں اراکین مسلسل بولتے رہے جس سے کان پڑی آواز سنائی نہ دی دونوں اراکین نے اس موقع پر ایک دوسرے کے خلاف سخت الفاظ بھی استعمال کئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے