روس کی فوجی کارروائی میں مداخلت کی کوشش کی تو اس کے اس نتائج سنگین ہوں گے : پیوٹن

ماسکو: روسی صدر نے یوکرینی فوج سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کر دیا۔ صدر پیوٹن نے تنبیہ کی کہ یوکرین آپریشن میں بیرونی مداخلت پر بھرپور جواب دیا جائے گا۔ روس کے صدرولادی میرپیوٹن نے ٹیلی ویژن سے خطاب میں کہا کہ روس کو یوکرین کی جانب سے لاحق خطرات کے باعث یوکرین میں فوجی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس یوکرین پر قبضہ نہیں کرنا چاہتا، کارروائی میں ہونے والے خون خرابے کی ذمہ داری یوکرین پرعائد ہوگی، روس یوکرین کے علاقے دونباس میں خصوصی فوجی آپریشن کیا جائیگا، شہریوں کو محفوظ علاقوں میں جانے کی اجازت ہوگی۔صدر پیوٹن نے خبردار کیا کہ کسی نے روس کی فوجی کارروائی میں مداخلت کی کوشش کی تو اس کے اس نتائج اتنے سنگین ہوں گے جو پہلے کبھی کسی نے نہیں دیکھے ہوں گے۔ روسی صدرنے الزام عائد کیا کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں نے روس کے اس مطالبے کو نظرانداز کیا کہ وہ یوکرین کو نیٹو کا حصہ بننے سے روکیں اور اس سلسلے میں ماسکو کو سیکورٹی گارنٹی دی جائے۔روسی صدر کا مزید کہنا تھا کہ یوکرین میں فوجی آپریشن کا مقصد یوکرین کو ڈی ملٹرائز کرنا ہے۔ یوکرین کے جو فوجی ہتھیار ڈال دیں گے انہیں محفوظ علاقوں میں جانے کی اجازت دے دی جائیگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے