میری کارکردگی پر تبصرہ نہیں ہوتا مگر ذات سے متعلق غلیظ گفتگو کی جاتی ہے، مراد سعید

اسلام آباد(ڈیلی گرین گوادر)وفاقی وزیر مراد سعید نے کہا ہے کہ ان کی کارکردگی پر تبصرہ نہیں ہوتا مگر ان کی ذات سے متعلق غلیظ گفتگو کی جاتی ہے۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں نہیں پتہ کہ پرفارم کرنا اتنا بڑا گناہ ہوتا ہے۔ میں پارلیمنٹ میں کمزور طبقے کی بات کرنے آیا ہوں اور جب بھی بات کرتا ہوں دلائل سے کرتا ہوں۔

مراد سعید نے کہا کہ ان سیاست دانوں کی نظر میں ہماری کوئی اوقات نہیں لیکن جب ہمارے جیسے لوگ سیاست میں کسی مقام پر پہنچتے ہیں تو یہ سیاست دان ہم پر غلیظ الزامات لگانے لگتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں نے دیئے گئے تمام اہداف کو سو فیصد تک مکمل کیا اور 13 سال بعد پاکستان پوسٹ کو خسارے سے نکالا جبکہ ملک میں سڑکوں کا جال بچھا دیا گیا ہے۔

مراد سعید نے کہا کہ میں تحریک انصاف کے اسٹوڈنٹس ونگ کا بانی ہوں اور اسٹوڈنٹ ونگ کو کافی کم عرصے میں خیبر پختونخوا میں فعال کیا۔ 2013 کے انتخابات میں پارٹی نے مجھ پر اعتماد کیا لیکن میں پارلیمنٹ میں جی حضوری کرنے نہیں آیا تھا اور میں نے طویل سیاسی جدوجہد کے بعد یہ مقام حاصل کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریمنڈ ڈیوس اور ڈرون حملون کے خلاف باہر نکلنے والوں میں میں بھی شامل تھا اور عدلیہ بحالی تحریک میں بھی حصہ لیا۔ 2018 کے انتخابات سے پہلے میرے خلاف مہم چلائی گئی۔مراد سعید نے کہا کہ ڈگری کے معاملے پر بھی میں عدالت سے سرخرو ہوا۔ پارلیمنٹ میں رانا ثنااللہ، حافظ حمد اللہ، قادر پٹیل اور آغا رفیع اللہ کو میرے خلاف کھڑا کیا جاتا ہے اور یہ لوگ میرے خلاف غلیظ زبان استعمال کرتے ہیں لیکن میں کارکردگی کی بنیاد پر وزیر مملکت بنا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک ہفتے میں کسی نے یہ سوال نہیں کیا کہ کتنے ٹارگٹ تھے لیکن وزارت مواصلات کو 88 اہداف ملے تھے اور وہ سب مکمل کیے۔ 3 سال کے دوران 2 ہزار 32 کلومیٹر سڑکیں بنائیں۔ این ایچ اے کی آمدن میں 107 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ 117 ٹول پلازوں میں سے کسی پر بھی ٹیکس نہیں بڑھایا اور پاکستان کی 13 ہزار شاہراہوں کی میپنگ مکمل کی۔

وزیر مملکت نے کہا کہ 13 سال بعد پاکستان پوسٹ نے 32 درجے ترقی کی اور موٹروے پولیس نے ڈرون کیمروں کا استعمال شروع کیا۔ پاکستان میں 13 ہزار کلومیٹر سڑکیں پرانی اور تباہ تھیں جبکہ میانوالی مظفر گڑھ سڑک کی تعمیر کا آغاز ہوچکا ہے۔ ہماری آمدن میں اضافہ ہوا تو ہم نے 4 ہزار کلومیٹر سڑکیں اٹھائی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ سمجھتے ہیں پارلیمنٹ اور سیاست میں صرف جاگیردار یا ان کی اولاد آسکتی ہے اور اگر میری طرح کوئی ان کے سامنے ڈٹا رہے تو پھر یہ الزامات لگانا شروع کر دیتے ہیں۔ ان کی اتنی اوقات ہی نہیں کہ یہ ہمارا مقابلہ کرسکیں یا چیلنج کر سکیں۔ عوام دیکھ رہے ہیں یہ میرے خلاف کس قسم کی غلیظ مہم چلائی گئی لیکن ان کی غلیظ مہم کے باوجود میں نے کام کیا۔

مراد سعید نے کہا کہ میں ایک نئے عزم کے ساتھ ان کا مقابلہ کرنے آیا ہوں اور اس بار قانونی کارروائی کا راستہ اس لیے اختیار کیا کیونکہ میں ایک وزارت کا فیس ہوں میری وزارت پر بات کی گئی۔ جدوجہد کرنے والوں کو تحریک انصاف نے موقع دیا ہے لیکن یہ اُن سے برداشت نہیں ہوتا کہ مڈل کلاس ان کا مقابلہ کرے۔انہوں نے کہا کہ میں نے اپنا قانونی طریقہ کار اختیار کیا ادارے نے کس طرح کارروائی کی یہ ادارے کا مینڈیٹ ہے۔ غلیظ مہم پر ایف آئی اے میں شکایت کرنا میرا قانونی حق ہے اور کیا مجھے قانونی حق استعمال نہیں کرنا چاہیے تھا ؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے