ینگ ڈاکٹرزکا آج سے صوبے میں کورونا ویکسی نیشن سینٹرزاورجاری ہیلتھ پروگرامزکے بائیکاٹ کااعلان

کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر) ینگ ڈاکٹر ایسو سی ایشن کے چیئر مین ڈاکٹر بہار شاہ اور ڈاکٹر حفیظ نے اپنے مطالبات کے حق میں آج سے صوبے میں کورونا ویکسی نیشن سینٹرز بند کرانے اور مختلف امراض کی روک تھام کے حوالے سے جاری ہیلتھ پروگرامز کے بائیکاٹ کااعلان کردیا،ینگ ڈاکٹرز کسی بھی وقت ریڈ زون جاکر وزیراعلی ہاؤس کے سامنے دھرنا دیں گے،صوبائی وزیر صحت میڈیکل اسٹوڈنٹس کامسئلہ نہیں حل کرسکتے تومستعفی ہوجائیں۔ یہ اعلان انہوں نے بدھ کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کر تے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کی جانب سے ہیلتھ کارڈز کا اجراء ایک ڈرامہ ہے، ہیلتھ کارڈ میں او پی ڈی اور اہم بیماریوں کے علاج کی کوریج نہیں ہے مختلف امراض کی روک تھام کے حوالے سے جاری ہیلتھ پروگرامز کا بھی بائیکاٹ کیا جائے گا،ہیلتھ کارڈ سے متعلق حقیقت اگر جا ناچاہتے ہیں توپاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماء عبد القادر پٹیل کی تقریر سن لیں انہوں نے کہاکہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن آج سے صوبے میں کورونا ویکسی نیشن سینٹرز میں خدمات انجام نہیں دے گی،صوبائی وزیر صحت میڈیکل اسٹوڈنٹس کامسئلہ نہیں حل کرسکتے تومستعفی ہوجائیں،انہوں نے کہاکہ ینگ ڈاکٹرز کسی بھی وقت ریڈ زون جاکر وزیراعلی ہاوس کیسامنے دھرنا دیں گے،انہوں نے کہا کہ حکومت سے ہمارے کسی قسم کے کوئی مذاکرات نہیں ہوئے حکومت اور ہمارے درمیان ڈیل کا پراپیگنڈا کیا جارہاہے، ہم حکومت کے خلاف اپنے احتجاج کا دائرہ وسیع کررہے ہیں انہوں نے کہاکہ حکومت اپنی عیاشیاں کم کرے،ہم آج ہی اپنی تنخواہ 50 فیصد کم کرنے کو تیارہیں انہوں نے کہاکہ احتجا ج کرنا جمہو ری عمل ہے ہمیں سمجھ آتا کہ ہائی کورٹ ہمیں روک کیوں رہی ہے تین ماہ تک اسلام آباد میں احتجاج پر بیٹھنے ولا شخص آج وزیر اعظم ہے توکیاہائی کورٹ کے احکامات صرف ہم پر لا گو ہو تے ہیں انہوں نے کہاکہ حکمرانوں کی جانب سے پرو پیگنڈا کیا جارہا ہے کہ ڈاکٹرزپیسوں کی خاطر احتجاج پر ہیں حکمران یہ جھوٹا پرو پیگنڈا چھوڑ دیں، حکمرانوں کو ہسپتالوں، ڈاکٹر وں کی کوئی فکر نہیں ہے بلکہ انہیں اپنی جھوٹی کہا نیوں کی فکر ہے تاکہ یہ اپنا معیا ر قائم رکھ سکیں حکومت ہمیں دیوار سے لگانا چاہتی ہے تو یہ انکی خام خیالی ہے حکومت ہمیں بھگا نہیں سکتی انہوں نے کہاکہ میں حکو مت کو اوپن کیمرہ چیلنج کر تا ہوں کہ آغا خان یا ساؤتھ سٹی ہسپتال میں پو چھیں کے وہ ہیلتھ کو مانتے ہیں انہوں نے کہاکہ حکومت کمیٹیاں قائم کر نے سواء کچھ نہیں کر سکی انہوں نے کہاکہ آج بھی اگر کوئی ہسپتالوں میں مسئلہ ہو تا ہے ہما رے ڈاکٹر مار کہا تے ہیں انہوں نے کہاکہ تین ماہ سے پروئیویٹ ہسپتالوں میں نہیں گئے انہوں نے کہاکہ حکومت نے ہسپتالوں کے نظام کر بر باد کر نے کا ٹھیکا لے رکھا ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر حفیظ نے کہا ہے کہ ہیلتھ کا رڈ کے نام پر عوام سے پیسے بٹو ریں جارہے ہیں حکومت ہسپتالوں پر پیسے خرچ کر نے بجائے ہیلتھ کارڈ پر پیسے لگا رہی ہے جو کہ عوام کو دیورار کے سا تھ لگانے کے برابر ہے وزیر صحت عوامی نمائند ے ہیں انہیں چاہئے وہ عوام نمائندہ بن کر رہیں انہوں نے کہاکہ ہم حکومت کی دھمکیوں سے ڈر سے پیچھے نہیں ہٹیں گے سول ہسپتال کوئٹہ اور بی ایم سی میں انجو پلا سٹی انجو گر افی مشین نہیں ہیں انہوں نے کہاکہ حکومت کہتی ہے کہ ہم غرب ہیں ریکوڈ ک، کوئلہ کے ہم مالک ہیں ہم کیسے غریب ہو سکتے ہیں اگر غریب ہیں تو حکمران اپنی گا ڑیوں کے پیٹرول کے خرچ کو کم کریں انہوں نے کہا کہ اگر حکمران اپنی تنخوائیں اور عیا شیاں کم کر تی ہے تو ہما ری بھی 50فیصدتنخوائیں کم کر دیں انہوں نے کہاکہ حکمران ہما رے پی ایم سی کے طلباء کا مسئلہ حل نہیں کر سکتے لیکن انہیں دھمکیاں دیتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے