تھر پارکر میں 13 ماہ کے دوران 125 سے زائد خواتین کی خودکشی

تھرپارکر:سندھ میں غربت افلاس معاشرتی ناہمواریوں سے ضلع تھرپارکر میں خودکشیوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور گزشتہ 13 ماہ کے دوران 125 سے زائد خواتین گلے میں پھندا یا کنویں میں گر کر جانیں گنوا بیٹھیں۔

ضلع تھرپارکر میں مسائل حل ہونے کا نام نہیں لے رہے ہیں، ایک جانب بچے خواتین اور شہری مختلف بیماریوں کے باعث انتقال کر رہے ہیں تو دوسری جانب غربت، افلاس، رسم و رواج اور سماجی دوریوں کے باعث نوجوان خواتین خودکشیاں کرنے پر مجبور ہیں۔

گزشتہ سال محکمہ صحت غیر سرکاری تنظیم کے درمیاں ذہنی صحت سے متعلق آگاہی کے لیے معاہدے پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث تھرپارکر میں خودکشی کے واقعات رک نہ سکے۔

اس حوالے سے مٹھی میں ایک ورکشاپ کا انعقاد کیاگیا جہاں ماہرین نفسیات، سول سوسائٹی اور غیرسرکاری تنظٕیوں نے خودکشی کے عوامل اور مسائل پر گفتگو کی۔

سماجی اور اقتصادی مسائل کو حل کیے بغیر تھر میں خودکشی کے واقعات کو روکنا ممکن نہیں تاہم کمیونٹی میں آگاہی مہم کے ذریعے ان واقعات کو کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے