بلوچستان میں کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لگانے کا عمل شروع ہوچکا ہے، جام کمال

کوئٹہ:وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ بلوچستان میں کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لگانے کا عمل شروع ہوچکا ہے، پہلے مرحلے میں ہیلتھ ورکرز کو ویکسین لگائے جائے گی، کورونا وباء سے پوری دنیا کو نقصان ہوا ہے، ڈاکٹرز اور ہیلتھ وررکرز کی ویکسین کے لئے رضاکارانہ طور پر خود کو پیش کرنا قابل ستائش ہے، ابھی تک 22ہزار ہیلتھ ورکرز ویکسینیشن کے لئے رجسٹرڈ ہوئے ہیں، کورونا کی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے صوبے کے مختلف علاقوں میں بھی مہم شروع کی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین کے افتتاح کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کیا۔ اس سے قبل وزیراعلی بلوچستان نے کورونا سے بچاؤ ویکسین مہم کا افتتاح کردیا، اس موقع پر سب سے پہلی ویکسین پی ایم اے کے صدر ڈاکٹر آفتاب جبکہ دوسری ویکسین ڈاکٹر نور اللہ موسی خیل اور تیسری ویکسین ڈاکٹر شاہین کوثر کو لگائی گئی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہاکہ کورونا وبا کے دوران بلوچستان کے ڈاکٹرز کا کردار قابل ستائش ہے کیونکہ انہوں نے لاک ڈاؤن سے اب تک جان کی پرواہ کئے بغیر بہت ہی بہتر انداز میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان شہدا کے لئے خاص کر ڈاکٹرز اور دیگر ہیلتھ ورکرز کے لئے دعا گو ہیں جو کورونا کے باعث دوران ڈیوٹی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وبا پوری دنیا کے لئے ایک چیلنج تھا اور پوری دنیا کو اس سے بڑا نقصان ہوا۔ ہیلتھ ورکرز، محکمہ صحت کے علاوہ دیگر اداروں اور خاص کرالیکٹرانک میڈیا نے کورونا سے متعلق لوگوں میں شعور و آگاہی پیدا کرنے کے لئے اہم کردار ادا کیا اور تمام تر خطرات کے باوجود بھی رسک لے کر کورونا کے بچاؤ سے متعلق لوگوں میں شعور و آگاہی پیدا کی اور ہماری خامیوں کی بھی نشاندہی کرائی۔وزیراعلی نے کہاکہ اس مہم کو پورے صوبے میں کورونا کی صورتحال اور آبادی کو مد نظر رکھتے ہوئے مخصوص مقامات پر اسے شروع کررہے ہیں،5ہزار ویکسین کی ایک کھیپ ہمیں موصول ہوچکی ہے اور 5ہزار کا ایک اور کھیپ بھی ایک ہفتے میں مل جائے گی۔ صحافیوں کے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کورونا کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے مہم کو مختلف علاقوں اور خاص کر بارڈرز ایریاز میں شروع کررہے ہیں جہاں ضرورت ہوگی وہاں اس مہم کو منظم انداز سے شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ ڈاکٹروں کی یہ کاوش بھی قابل قدر ہے کہ انہوں نے رضاکارانہ طور پر ویکسی نیشن کے لئے خود کو پیش کیا ہے کیونکہ یہ دنیا میں ایک نیا ویکسین ہے۔ انہوں نے کہاکہ ابھی تک 22ہزار ہیلتھ ورکرز ویکسینیشن کے لئے رجسٹرد ہوئے ہیں جس سے خود کو رضاکارانہ طور پر پیش کرنے کے لئے دیگر دیگر سیکٹرز کے لوگوں میں بھی اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان سمیت ملک کے تمام علاقوں کو کو آبادی بنیاد پر نہیں بلکہ کورونا کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ضرورت کے مطابق ویکسین فراہم کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ مہم کا افتتاح وزیراعلی ہاؤس کی بجائے ہسپتال میں کرنا چارہا تھا مگر معلوم ہوا کہ میڈیا اور انتظامات یہاں پر ہے تو یہاں افتتاح کیا اور اس کے بعد ہسپتالوں میں جائیں گے جہاں پر بھی اس کا انعقاد کیا جائے گا۔ مہم کے افتتاح کے موقع پر سیکرٹری صحت، چیف سیکرٹری، ڈاکٹرز و دیگر حکام بھی موجود تھے۔ اس موقع پر سیکرٹری صحت نے کہا کہ پہلے مرحلے میں ہیلتھ ورکرز کواور دوسرے مرحلے میں 65سال سے زائد عمر کے افراد کو ویکسین لگائے جائے گی۔ اس موقع پر ڈاکٹر آفتاب کاکڑ نے کہاکہ کسی بھی کی ویکسین محفوظ ہوتی ہے خود کو رضاکارانہ طور پر اس لئے پیش کیا تاکہ ہیلتھ ورکرز سمیت عوام کو بھی پیغام جائے کہ اس ویکسین کے کوئی مضر اثرات نہیں ہیں اس لئے تمام افرا د سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ خود کو اس مہلک مرض سے بچانے کے لئے ویکسین لگوائے۔کوئٹہ میں انسداد کورونا ویکسی نیشن پروگرام کی تقریب وزیراعلی سیکرٹریٹ میں ہوئی جہاں جام کمال نے ویکسی نیشن کا افتتاح کیا۔بعد ازاں وزیر اعلی بلوچستان جام کمال نے چلڈرن ہسپتال کا دورہ کیا اور اس موقع پر کورونا ویکسین مہم کے تحت چلڈرن ہسپتال میں ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکس کو ویکسین لگائے گئے۔ وزیراعلیٰ کا اس موقع پر کہنا تھا کہ سی ایچ کیو کی کارکردگی بہتر بنائی گئی ہیں۔ پاکستان میں جتنے میں کینال سسٹم ہے وہاں پانی صاف نہیں۔کینالوں میں سیوریج کا پانی بھی شامل کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مختلف 9پی سی آر لیب بنایا جارہا ہے جو پہلے کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ڈسٹرکٹ لیول کے پی سی آر لیب کی کارکردگی بہتر ہوئی ہیں،ہماری توجہ کوئٹہ پر بھی ہے لیکن اب دوسرے اضلاع پر بھی توجہ دینا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے