خضدار میں حالیہ لیویز کی پوسٹوں پر تقرریوں کیخلاف لانگ مارچ کے شرکاء منگچرپہنچ گئے

منگچر:میرٹ کی پامالی نوجوانوں کے حقوق پر ڈاکہ ہے اپنے حقوق کے لیے اس سخت سردی میں کوئٹہ تک لانگ مارچ کررہے ہیں سوراب،قلات اورمنگچرمیں سیاسی،سماجی اورقبائلی حلقوں کی جانب سے استقبال اوراظہاریکجہتی پر ان کاشکرگزارہیں ان خیالات اظہار سمیع نوتانی کی قیادت میں خضدار میں حالیہ لیویز کی پوسٹوں پر تقرریوں کے خلاف احتجاجاً کوئٹہ تک لانگ مارچ کے شرکاء نے منگچربازارمیں استقبالیہ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر آل پارٹیز ایکشن کمیٹی منگچر جس میں جمیعت علمائے اسلام کے رہنماء ڈاکٹریعقوب بلوچ، ڈاکٹر ظہیر احمد لانگو ڈاکٹر صالح سمالانی پی ٹی آئی کے رہنماء حفیظ رند، بی این پی مینگل کے رہنماء سلام دانش۔ کبیر مینگل۔ظفر مینگل، نیشنل پارٹی کے رہنماء سفرخان نیچاری فضل الرحمان محمد شہی پیپلز پارٹی کے رہنماء سلیم مینگل، اوردیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ میرٹ کی پامالی صرف خضدار کے نوجوانوں کیساتھ نہیں ہورہا ہے بلکہ پورے صوبے میں اورضلع قلات میں بھی میرٹ کی پامالی کرتے ہوئے من پسند اور سیاسی بنیادوں پر تقرریاں کی جارہی ہے حالیہ دنوں ضلع قلات میں نان ٹیچنگ اسٹاف کے خالی آسامیوں پر میرٹ کے برخلاف من پسند اورسیاسی وسفارشی اشخاص کی بھرتیاں کی گئی ہے جس کے خلاف تمام حلقے سراپا احتجاج ہے ہم ان متاثرہ نوجوانوں سے بھی اظہاریکجہتی کرتے ہیں وہ بھی خضدار کے ان نوجوانوں کی تقلید کرتے ہوئے اپنے حق اورحقوق کے لیے جدوجہد کریں ہم اس سخت سردی میں جہاں درجہ حرارت منفی گیارہ سے بھی نیچے ہے یہ نوجوان اپنی جدوجہد کوجاری رکھے ہوئے ہیں اوریخ بستہ ہوائیں بھی ان کے جذبات اور ہمت کو ٹھنڈا نہیں کرسکا ہے ان کی ہمت اورجرائت کو سلام پیش کرتے ہیں اتنے دن سے احتجاج کرنے والے ان نوجوانوں سے ابھی تک کوئی مذاکرات کرنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتا ہے حکومتی نمائندوں کے کان جوں تک نہیں رینگتی ہے جوقابل افسوس ہے ہم حکومت اوراعلیٰ حکام سمیت عدالت عالیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ خضدارقلات سمیت پورے بلوچستان میں میرٹ کے برعکس بھرتیوں کے عمل کانوٹس لیکر حقداروں کو ان کے حقوق دلائیں اورمیرٹ کی پامالی کے ذمہ داروں کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے ورنہ پورے بلوچستان میں بے روزگارنوجوان سڑکوں پر ہونگیں اس موقع پر جمعیت کے مرکزی رہنماء ڈاکٹر عبدالمالک نیچاری۔حاجی مولاداد سمالانی۔ حاجی عبد المجید شاہوانی اور دیگر قبائلی عمائدین نے بڑی تعداد میں موجود تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے