بلوچستان میں لیبر قوانین کی پامالی اور صوبے میں 62 یونینز پر بلا جواز پابندی کا نوٹس لیا جائے:خان زمان

کوئٹہ : بلوچستان لیبر فیڈریشن کے مزدور صدر خان زمان فیڈریشن کے مرکزی ترجمان عابد بٹ نے بلوچستان حکومت وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان اور چیف سیکرٹری بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان میں لیبر قوانین کی پامالی اور صوبے میں 62 یونینز پر بلا جواز پابندی کا نوٹس لیکر محکمہ لیبر بلوچستان کے اعلی حکام سے اس بات کی باز پرس کی جائے کہ پنجاب سندھ اور خیبر پختونخواء میں واسا، پی ایچ ای، پی ڈبلیو ڈی (سی اینڈ ڈبلیو) زراعت سمیت دیگر سرکاری اور صنعتی اورپبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ اٹھارٹیز کے محکموں میں ٹریڈ یونین بحال اورمزدوروں اور ملازمین کیلئے بنائے گئے لیبر قوانین پر عمل کیا جا رہا ہے اور وہاں سن کوٹہ سمیت ملازمین کو لیبر قوانین کے تحت تمام مراعات حاصل ہیں صرف بلوچستان میں استحصالی پالیسیوں کو دوام دیتے ہوئے صوبے کی 62یونینز پر پابندی، لیبر لاز پر عمل نہ ہونے اور بلوچستان کے غریب محنت کش طبقہ اور ملازمین کیساتھ ظلم و نا انصافی کس بنیاد پر کی جارہی ہے۔

لگتا ہے بلوچستان کا محکمہ محنت، ڈی جی لیبر اور دیگر ذیلی ادارے وزیر اعلی بلوچستان اورصوبے کے دیگر اعلی اداروں کے انتظام میں نہیں آتے اسے73 کے آئین پاکستان اور لیبر قوانین میں محنت کشوں اور غریب عوام کو حاصل حقوق کی خلاف ورزی کرنے کی کھلی چھوٹ حاصل ہے ان خیالات کا اظہار

انہوں نے فیڈریشن کے دفتر میں مزدوروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) ایشیاء پیسفک فورم آی ٹی یو سی نے 3 ستمبر 2019 کو وزیر اعظم عمران خان کو لیٹر تحریر کرکے بلوچستان میں 62یونین پر پابندی کی شدید مزمت کی گئی اور اسے آئی ایل او کے عالمی کنونش 87 اور 98 فریڈم آف ایسوسی ایشن و کولیکٹو بارگیننگ کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے یاددہانی کرائی کہ پاکستان کی حکومت نے معاہدوں میں ان حقوق کو تسلیم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اسکے بعد 9 مارچ 2020 کو آئی ایل او پاکستان کے دفتر کی جانب سے بلوچستان حکومت اور اس وقت کے سیکرٹری لیبر بلوچستان کو دوبارہ لیٹر تحریک کیا جس میں بلوچستان میں عالمی سطح کے علاوہ پاکستان اور بلوچستان میں رائج لیبر قوانین پر عمل نہ کرنے کا شکوہ کیا گیا کہ پاکستان میں ٹریڈیونین کی ایک لمبی تاریخ ہے بلوچستان میں ٹریڈ یونینز پر پابندی لگانا بلاجواز لیبر قوانین کی خلاف ورزی ہے

سیکرٹری لیبر بلوچستان کے کہنے پر ہم نے اپنا احتجاج موخر کیا تھا مگر بلوچستان حکومت نہ کسی ذمہ دار محکمے نے اس کا نوٹس لیابلوچستان لیبر فیڈریشن مزدور جدوجہد کے ذریعے مسائل کے حل پر یقین رکھتی ہے اسی سلسلے میں فیڈریشن کے زیر اہتمام 25 نومبربروز بدھ دن بارہ بجے بھر پور احتجاج کا فیصلہ کیاہے محنت کش مزدور اور ملازمین اپنے جائز مطالبات تنخواہوں کی ادائیگی پرموشن سن کوٹہ اداروں میں مستقلی اور دیگر مسائل کے حل کیلئے بھر پور احتجاج کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے